طبع عالی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ذوق اعلٰی، خوش فکری۔ "اس کی فکر عالی کے سامنے طبعِ عالی شرمندہ ہے۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٥٥:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طبع' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی زبان ہی سے اسم صفت 'عالی' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧٥ء کو "تاریخ ادب اردو" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ذوق اعلٰی، خوش فکری۔ "اس کی فکر عالی کے سامنے طبعِ عالی شرمندہ ہے۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٥٥:٢ )
جنس: مؤنث